ہدف:
حضرت عمرفاروقؓ کی زندگی، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے تعلق، ان کے دورِحکومت اور اسلام کے لئے ان کی خدمات سے آگاہ ہونا
آج کا ہمارا موضوع ہے
حضرت عمر فاروق ؓ

بچوں !آج آپ حضرت عمر فاروق ؓ کی زندگی کے بارے میں جانیں گے کہ انہوں نے اپنی زندگی کیسے گذاری اور انہوں نے اپنی طرز زندگی میں کون کون سے ایسے کام کئے جو آج تک موجود ہیں اور ان پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔
بچوں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے وصال کے بعدحضرت عمرؓ خلیفہ منتخب ہوئے ان کا دور خلافت اسلامی فتوحات کا سنہری دور تھا۔ان کے دور میں شام ،مصر ،عراق اور ایران کے کئی علاقے فتاح ہوئے۔انہوں نے اپنے عہد خلافت میں اسلامی حکومت کی حدود کو وسیع کیا۔حضرت عمر فاروق ؓ نے ایسا نظام ترتیب دیا جو آج تک پوری دنیا میں رائج ہے۔
انہوں نے سن ہجری کا آغاز کیا ،جیل کا تصور دیا،موعذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں،مسجدوں میں روشنی کا بندوبست کیا اور پولیس کا محکمہ بنایا۔اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں ،معذوروں،بیواہوں اور بے آسراوں کے وظیفے بھی مقرر کیے۔فوجی چھاونیاں بنوائیں اور فوج کا باقاعدہ محکمہ قائم کیا،اور بے انصافی کرنے والے ججوں کو سزا دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں پہلی بار با اختیار لوگوں کا احتساب بھی شروع کیا۔
حضرت عمرفاروقؓ فرماتے تھے کہ جو حکمران عدل کرتے ہیں انصاف کرتے ہیں وہ راتوں کو بے خوف سوتے ہیں ۔ان کا یہ بھی فرمان تھا کہ قوم کا سردار قوم کا سچا اور نیک خادم ہوتا ہے۔ان کے دسترخواں پر کبھی دو سالن نہیں رکھے گئے اور وہ زمین پر سر کے نیچے اینٹ رکھ کر سو جاتے تھے۔آپؓ کے کرتے پر چودہ پیوند تھے اور ان پیوندوں میں ایک سرخ چمڑے کا پیوند بھی تھا۔وہ موٹا اور کھردرا کپڑا پہنتے تھے ،انہیں نرم اور باریک کپڑے پسند ہی نہیں تھے۔
آپؓ جب کسی کو گورنر بناتے تو اس کو نصحیت فرماتے تھے کہ کبھی ترکی گھوڑے پر سوار نا ہونا،باریک لباس نا پہنا،چھنا ہوا آٹا نا کھانا ،دربان نا رکھنا اور کسی فریادی کے آنے پر دروازہ بند نا کرنا۔حضرت عمر ؓ اسلامی دنیا کے پہلے خلیفہ تھے۔جنہیں امیر المومینیں کا خطاے دیا گیا اور دنیا کے واحد حکمران تھے جو فرمایا کرتے تھے کہ میرے دور میں اگر فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو اس کی سزا بھی مجھ کو بھکتنا ہو گی۔
حضرت عمر ؓ نے اپنے دور میں جس جس خطہ میں اسلام کا جھنڈا لہرایا وہاں سے آج بھی اللہ اکبر کی صدائیں آتی ہیں وہاں آج بھی لوگ اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ان کا بنایا ہوا نظام دنیا کے دو سو پینتالیس ممالک میں آج بھی کسی نا کسی شکل میں موجود ہے۔حضرت عمر ؓ کے لیے مشرکین بھی اعتراف کرتے تھے کہ اگر اسلام میں ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا بھر میں صرف دین اسلام ہی نافذ ہوتا۔
حضرت عمر فاروق ؓ سے متعلق اہم نکات
نام:حضرت عمرؓ
لقب:نبی کریمﷺ نے آپ کو فاروق کا لقب عطا فرمایا
تاریخ پیدائش:آپؓ ۵۸۳میں پیدا ہوئے
تاریخ وفات:یکم محرم الحرام ۳۴ ہجری ۶۴۴ عیسوی
پس منظر ،تعلیم:حضرت عمر فاروقؓ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔آپ ؓ کا تعلق قریش کے معزز قبیلہ بنو عدی سے تھا۔آپؓ کا شمار مکہ کے ان چند لوگوں میں ہوتا تھا جو اسلام سے پہلے پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔آپ ؓ اکثر رات کو مدینے کی گلیوں میں لوگوں کا حال معلوم کرنے کے لیے نکل جایا کرتے تھے۔آپ ؓلوگوں کی ضروتوں کا خیال رکھتے اور ان کی مدد کرتے۔
کارنامہ:آپؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے اور انہوں نے پہلی مرتبہ خانہ کعبہ میں باجماعت نماز اداکی۔آپؓ بہت بڑی سلطنت کے حکمران ہوتے ہوئے سادہ زندگی بسر کی۔آپؓ نے انصاف ،مساوات ،ایثار اور فلاح و بہبود کے کاموں کی وجہ سے بہترین حکمران کا درجہ پایا۔
حضرت عمر فاروقؓ کادور اسلامی تاریخ کا سنہری دور تھا۔
آئیے بچوں اسلامیات کی کتاب سے سبق حضرت عمر فاروق ؓ کی پڑھائی کر کے مزید آگاہی حاصل کرتے ہیں ۔
اسلامیات کی کتا ب کا صفحہ نمبر 83 کھول لیجیے۔
- Full access to our public library
- Save favorite books
- Interact with authors

- < BEGINNING
- END >
-
DOWNLOAD
-
LIKE(1)
-
COMMENT()
-
SHARE
-
SAVE
-
BUY THIS BOOK
(from $4.39+) -
BUY THIS BOOK
(from $4.39+) - DOWNLOAD
- LIKE (1)
- COMMENT ()
- SHARE
- SAVE
- Report
-
BUY
-
LIKE(1)
-
COMMENT()
-
SHARE
- Excessive Violence
- Harassment
- Offensive Pictures
- Spelling & Grammar Errors
- Unfinished
- Other Problem

COMMENTS
Click 'X' to report any negative comments. Thanks!